13 اکتوبر 2011 - 20:30

ایک مغربی اخبار نے ایران پر سعودی سفیر کے قتل کے الزام کوامریکہ کی سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ اور اسےمضحکہ خیز قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ، سعودی عرب اور بحرین اس بے بنیاد الزام سے فائدہ اٹھانے کی تلاش وکوشش کررہے ہیں لیکن ایران پر قتل کے الزام کا جھوٹا پیوند نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ یہ الزام سوچی سمجھی پالیسی کے تحت لگایا جارہا ہے۔

ابنا:اخبار اینڈپینڈٹ اپنے تجزيہ میں ایران پر سعودی سفیر کے قتل کے الزام کوامریکہ کی سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ اور اسےمضحکہ خیز قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ، سعودی عرب اور بحرین اس بے بنیاد الزام سے فائدہ اٹھانے کی تلاش وکوشش کررہے ہیں لیکن ایران پر قتل کے الزام کا جھوٹا پیوند نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ یہ الزام سوچی سمجھی پالیسی کے تحت لگایا جارہا ہے۔

اخبار کے مطابق ایرانی خفیہ اداروں کے بارے میں جو اطلاعات ہیں ان کی روشنی میں سعودی سفیر کے قتل کا الزام بالکل بےبنیاد ہے اور امریکہ و سعودی عرب اپنی اندرونی مشکلات پر پردہ ڈالنے اور رائے عامہ کو منحرف کرنے کے لئے ایران کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کی یہ کوشش ایک سوچی، سمجھی پالیسی کے مطابق ہے برطانوی اخبار کے مطابق منشیات میں ملوث افراد اور سکینڈ ہینڈ گاڑیوں کی فروخت کرنے والے شخص سے سعودی سفیر کے قتل کے لئے استفادہ ایرانی منصوبہ کا حصہ نہیں ہوسکتا بلکہ ایسے افراد سے استفادہ امریکی پالیسی کا حصہ ہے امریکہ اس قسم کے واقعات کے لئے ایسے افراد سےاستفادہ کرتا ہے۔  اخبار کے مطابق امریکی اہلکاروں کے دعوے اس سے پہلے بھی جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں کیونکہ امریکہ نے عراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں بڑے بڑے دعوے اور شواہد پیش کرنے کی بات کی تھی جو بعد میں سب کے سب جھوٹے ثابت ہوئے جبکہ امریکی اہلکاروں کے جھوٹے پروپیگںڈہ کی بنا پرلاکھوں افراد ہلاک اور متاثر ہوئے ہیں۔ اخبار کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ کا تازہ ترین دعوی امریکہ کے ماضی کے دعوؤں کی طرح بعد میں جھوٹا ہی ثابت ہوگا کیونکہ یہ دعوی اس وقت بھی جھوٹا ہی ہے اور جھوٹ کل بھی جھوٹ ہی ثابت ہوگا۔ اخبارکے مطابق سعودی عرب ، بحرین اور امارات بھی اپنی اندرونی مشکلات پر پردہ ڈالنے کے لئے استفادہ کررہے ہیں اور وہ بھی امریکہ کے جھوٹے پروپیگنڈہ میں شامل ہوگئے ہیں کیونکہ مذکورہ عرب ممالک کئی بار امریکہ سے ایران پر حملے کی درخواست کرچکے ہیں مذکورہ عرب ممالک ایران کی پیشرفت و ترقی سے خوش نہیں ہیں۔ ...........

/169